Header Ads Widget

بریکنگ نیوز

اہم خبریں
  • لوڈ ہو رہا ہے…

سپریم کورٹ کا بانی پی ٹی آئی کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم، 16 ستمبر تک سماعت ملتوی

اسلام آباد (بی ڈی شاہ نیوز): سپریم کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو آئندہ سماعت تک شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ بانی (پی ٹی آئی) کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے اور انہیں سخت سکیورٹی میں ہسپتال منتقل کیا جائے، جبکہ ہسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال متاثر نہیں ہونی چاہیے۔

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور علاج سے متعلق مقدمات کی سماعت جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس شاہد وحید نے سابق وزیر اعظم کے میڈیکل ریکارڈ سے متعلق استفسار کرتے ہوئے پوچھا کہ بانی پی ٹی آئی کا مکمل میڈیکل ریکارڈ فراہم کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟ عدالت کو فراہم کیا گیا مواد صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے۔

عدالت نے بانی پی ٹی آئی کا مکمل میڈیکل ریکارڈ آئندہ سماعت سے قبل جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جب ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو وہ خفیہ نہیں رہے گا۔

بانی پی ٹی آئی کے وائیٹل آرگنز متاثر ہونا شروع ہوگئے ہیں: جسٹس شاہد وحید

سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ میڈیکل رپورٹ میں انجیوگرافی کرانے کا ذکر ہے، کیا جیل میں انجیوگرافی ممکن ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ یہ عمل جیل سے باہر کسی ہسپتال میں ہوسکتا ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی کی نہ نبض نارمل ہے اور نہ ہی دل کی صورتحال معمول کے مطابق ہے۔ میڈیکل رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے وائیٹل آرگنز متاثر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے ملاقات کے معاملے پر بھی سوالات کیے۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہوگی۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو آپ بھی کریں گے؟ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں ہو رہا۔

پی ٹی آئی کو بانی کی صحت پر سیاست نہیں کرنی چاہیے: جسٹس نعیم افغان

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ تین سال کے دوران بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہنوں کی 48 ملاقاتیں کروائی گئیں۔ عدالت نے ان ملاقاتوں کی مکمل تفصیلات طلب کرنے کے ساتھ ساتھ بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے ٹیلیفون پر بات کروانے کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔

پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ان کی بہنوں کی کم از کم ملاقاتیں تو ہونی چاہئیں اور بہنوں سمیت ڈاکٹروں کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔ اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی کو بانی کی صحت پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

عزیر بھنڈاری نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان کا شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں مکمل چیک اپ کرایا جائے۔ جسٹس شاہد وحید نے سوال کیا کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ہسپتال سے باہر آکر میڈیا ٹاک نہیں ہوگی؟ وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ ڈاکٹر عظمیٰ اور ڈاکٹر عاصم ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو نہیں کریں گے۔

عظمیٰ خان کے وکیل نے بانی پی ٹی آئی سے ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف کی ملاقات کی اجازت دینے کی درخواست کی۔ عدالت نے ڈاکٹر عظمیٰ کی طبی قابلیت سے متعلق سوال کیا، جس پر بتایا گیا کہ وہ میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔

جسٹس شاہد وحید نے ڈاکٹر عاصم یوسف کی تخصص سے متعلق بھی سوال کیا اور کہا کہ وہ معدے کے ڈاکٹر ہیں، جبکہ دستیاب رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو معدے کا مسئلہ نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی درخواست گزار نے بانی پی ٹی آئی کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں کی اہلیت پر سوال نہیں اٹھایا۔

بانی پی ٹی آئی کا بلڈ کلاٹ کیوں ہوا، وجہ سامنے آنی چاہیے: عزیر بھنڈاری

سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض ملاقاتوں کے بعد میڈیا ٹاک نہ کرنے کی یقین دہانی کی خلاف ورزی ہوئی۔ اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر میڈیا ٹاک کے ذریعے یقین دہانی کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ یقین دہانی ان کی تھی، باقی افراد کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالت افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے گی تو پھر سلمان اکرم راجہ کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ پی ٹی آئی کو یہ طے کرنا چاہیے کہ بانی پی ٹی آئی کی طبی حالت پر کوئی سیاست نہیں ہوگی اور ان کے علاج کو سیاسی معاملہ نہیں بنایا جائے گا۔

عدالت نے پی ٹی آئی اور خاندان سے بیان حلفی لینے کی ہدایت بھی کی کہ ملاقات کے بعد کوئی میڈیا ٹاک نہیں ہوگی۔ سماعت کے دوران عدالت نے عظمیٰ خان کو براہ راست بات کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ ان کے وکیل موجود ہیں، اس لیے وہ خود بات نہ کریں۔

وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا بلڈ کلاٹ کیوں ہوا، اس کی وجہ سامنے آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جو کچھ 1979 میں ہوا، وہ دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کیوں ہوئی؟ سپریم کورٹ

جسٹس نعیم اختر افغان نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف زیرِ سماعت مقدمات کی مکمل تفصیل طلب کرلی۔ عدالت نے پوچھا کہ بانی پی ٹی آئی کتنے مقدمات میں انڈر ٹرائل قیدی ہیں، کتنے مقدمات میں سزا یافتہ ہیں اور کتنے مقدمات میں سزا معطل ہو چکی ہے۔

سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل حکام سے گزشتہ تین سال کے دوران بانی پی ٹی آئی سے ہونے والی ملاقاتوں کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کرتے ہوئے سوال کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کیوں ہوئی؟

جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے کس بہن کی ملاقات ہونی چاہیے؟ عزیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ عظمیٰ خان ڈاکٹر ہیں، اس لیے ان کی ملاقات کرائی جائے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عظمیٰ خان کی درخواست پر انہیں نوٹس جاری نہیں ہوا۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ عدالت اس نکتے کو بھی دیکھے گی کیونکہ اس معاملے میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد پیش ہوچکے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ وہ عظمیٰ خان کے کیس میں پیش نہیں ہوئے، جس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ یہ بات صبح کیوں نہیں بتائی گئی؟ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ آپ اسلام آباد کے سینئر ترین لا افسر ہیں، ایسے نہ کریں۔

ہفتے میں ایک دن اہلخانہ سے بھی بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کرائی جائے: سپریم کورٹ

جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو نجی ہسپتال ہی منتقل کرنے کی درخواست کیوں کی جا رہی ہے؟ عزیر بھنڈاری نے بتایا کہ پمز ہسپتال میں بانی پی ٹی آئی کو اکثر لے جایا جاتا رہا ہے۔ عدالت نے نجی ہسپتال کے اخراجات سے متعلق سوال کیا تو عظمیٰ خان کے وکیل نے بتایا کہ نجی ہسپتال کے اخراجات خاندان کی جانب سے ادا کیے جائیں گے۔

عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کی رپورٹس پبلک نہ کرنے کی ضمانت کون دے گا اور میڈیکل رپورٹس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی کون کرائے گا۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سیاسی جماعت میڈیکل رپورٹ کو سیاست کے لیے استعمال نہیں کرے گی اور میڈیکل رپورٹ ڈاکٹرز اور بانی پی ٹی آئی کے خاندان کا معاملہ ہے۔

سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کو سابق وزیر اعظم کے علاج کو سیاسی معاملہ بنانے سے روکتے ہوئے حکم دیا کہ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی بانی پی ٹی آئی کے ہمراہ ہوں گے۔ عدالت نے ہفتے میں ایک دن اہلخانہ کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت بھی دے دی۔

عدالت نے حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی آئندہ سماعت تک ہسپتال میں رہیں گے جبکہ نجی ہسپتال کے تمام اخراجات پی ٹی آئی برداشت کرے گی۔ بانی پی ٹی آئی کو سخت سکیورٹی میں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور ہسپتال کے باہر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی۔

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے مقدمے کی سماعت 16 ستمبر 2026 تک ملتوی کردی اور آئندہ سماعت پر اڈیالہ جیل حکام کو بھی طلب کرلیا۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے مکمل میڈیکل ریکارڈ، ملاقاتوں کی تفصیلات اور مقدمات سے متعلق ریکارڈ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے