تعلیم کا زوال یا ہماری اجتماعی غفلت؟
کوہاٹ بورڈ کے نتائج ہمیں کس حقیقت کا آئینہ دکھا رہے ہیں؟
تحریر: محمد نعیم
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، شعور اور مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب تعلیمی نظام مضبوط ہو تو معاشرہ بھی مضبوط ہوتا ہے، لیکن جب یہی نظام کمزور پڑنے لگے تو اس کے اثرات صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری قوم اس کی قیمت چکاتی ہے۔
کوہاٹ بورڈ کے حالیہ میٹرک نتائج نے ایک مرتبہ پھر ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نویں اور دسویں جماعت کے نتائج کے مطابق تقریباً 39 فیصد طلبہ کامیاب جبکہ 61 فیصد طلبہ ناکام قرار پائے۔ یہ اعداد و شمار محض امتحانی نتائج نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی نظام، والدین، اساتذہ، طلبہ اور معاشرتی رویوں کی مجموعی تصویر پیش کرتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس مرتبہ کمزور نتائج کو صرف سرکاری تعلیمی اداروں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ متعدد نجی اسکول بھی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے، جبکہ چند اداروں کے علاوہ بیشتر کا کامیابی کا تناسب انتہائی کم رہا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ کسی ایک ادارے، ایک شعبے یا ایک طبقے کا نہیں بلکہ پورے نظام میں موجود خامیوں کا نتیجہ ہے۔
ہر سال نتائج آنے کے بعد ایک ہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ کہیں اساتذہ کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، کہیں والدین کو، کہیں متعلقہ بورڈ پر تنقید ہوتی ہے اور کہیں سارا بوجھ طلبہ کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کا بحران کبھی ایک وجہ سے پیدا نہیں ہوتا۔ یہ مختلف غلط فیصلوں، کمزور پالیسیوں، سماجی تبدیلیوں اور مسلسل نظر انداز کی جانے والی خامیوں کا مجموعی نتیجہ ہوتا ہے۔
یہ کالم کسی ایک ادارے یا فرد پر تنقید نہیں بلکہ ایک اجتماعی احتساب کی دعوت ہے۔ میری رائے کسی مفروضے پر مبنی نہیں بلکہ برسوں کے مشاہدے اور عملی تجربے کا نچوڑ ہے۔ نجی یونیورسٹی میں آٹھارہ سالہ خدمات، پرائمری اسکول کے رزلٹ مارکنگ، یونیورسٹی کے امتحانی مراکز میں سپروائزر کی ذمہ داریاں اور میڈیا ٹیم کے رکن کے طور پر کام کرنے کے دوران میں نے اس نظام کو قریب سے دیکھا ہے۔ اسی تجربے کی بنیاد پر محسوس کرتا ہوں کہ اگر ہم نے اصل مسائل کو تسلیم نہ کیا تو آنے والے برسوں میں نتائج مزید تشویشناک ہو سکتے ہیں۔
تعلیم کی کمزوری کی اصل وجوہات
تعلیم کا آغاز اسکول سے نہیں، گھر سے ہوتا ہے
ہر بچہ اپنی زندگی کا پہلا سبق اپنے والدین سے سیکھتا ہے۔ گھر ہی وہ جگہ ہے جہاں اس کی شخصیت، عادات، اخلاق اور ذمہ داری کا شعور پروان چڑھتا ہے۔ اسکول اس تربیت کو آگے بڑھاتا ہے، اس کی جگہ نہیں لے سکتا۔
چند سال پہلے والدین اپنے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں سے باخبر رہتے تھے۔ انہیں معلوم ہوتا تھا کہ بچہ کس مضمون میں کمزور ہے، کن دوستوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے، ہوم ورک مکمل کرتا ہے یا نہیں، اور اساتذہ اس کی کارکردگی کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔
آج صورتحال کافی حد تک تبدیل ہو چکی ہے۔ بہت سے والدین کی ذمہ داری صرف فیس ادا کرنے، کتابیں خریدنے یا امتحان کے دن دعا کرنے تک محدود ہو گئی ہے۔ روزمرہ تعلیمی نگرانی، اخلاقی تربیت اور بچوں کے معمولات پر توجہ پہلے جیسی نہیں رہی۔
یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ جس بچے کی رہنمائی گھر میں نہ ہو، اسے صرف اسکول کے ذریعے کامیاب بنانا آسان نہیں ہوتا۔ استاد روزانہ چند گھنٹے بچے کے ساتھ گزارتا ہے، جبکہ باقی وقت وہ اپنے گھر اور ماحول میں رہتا ہے۔ اگر بنیاد ہی کمزور ہو تو عمارت زیادہ دیر مضبوط نہیں رہ سکتی۔
موبائل فون اور سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا اثر
جب اسکرین کتاب کی جگہ لے لیتا ہے
جدید ٹیکنالوجی اپنی جگہ ایک نعمت ہے، لیکن اس کا غیر ضروری استعمال نئی نسل کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
آج کا طالب علم پہلے کی نسبت زیادہ وقت موبائل فون پر گزارتا ہے۔ مختصر ویڈیوز، ریلز، سوشل میڈیا، آن لائن گیمنگ اور مسلسل اسکرولنگ نے مطالعے کی عادت کو کمزور کر دیا ہے۔ کئی نوجوانوں کی ترجیح علم حاصل کرنا نہیں بلکہ وقتی شہرت، زیادہ فالوورز اور وائرل ہونے کی دوڑ بن چکی ہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کتابوں سے تعلق کمزور پڑتا جاتا ہے، توجہ منتشر رہتی ہے اور امتحان کے وقت بنیادی تیاری بھی مکمل نہیں ہو پاتی۔
ٹیکنالوجی سے دور بھاگنا حل نہیں، بلکہ اس کے متوازن اور تعلیمی استعمال کی تربیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کم عمری میں غیر ضروری آزادی اور غلط مصروفیات
جب تعلیم سے زیادہ دلچسپی تفریح میں ہو
ہمارے معاشرے میں ایک اور تشویشناک رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بہت سے نوجوان اپنی عمر اور تعلیمی ذمہ داریوں سے زیادہ وقت غیر ضروری سرگرمیوں میں گزارنے لگے ہیں۔
کم عمری میں موٹر سائیکل چلانا، گھنٹوں دوستوں کے ساتھ سڑکوں پر گھومنا، ریس لگانا اور دیگر غیر ضروری مشاغل نہ صرف قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں بلکہ کئی مرتبہ جان لیوا حادثات کا سبب بھی بنتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں مختلف اقسام کی منشیات، ویپ، سگریٹ اور دیگر نشہ آور اشیاء کی بڑھتی ہوئی رسائی بھی ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہے۔ جب ایک طالب علم تعلیم کے بجائے ایسی عادات کا شکار ہو جائے تو اس کی توجہ، ذہنی صلاحیت، نظم و ضبط اور مستقبل سب متاثر ہوتے ہیں۔
یہ صرف ایک طالب علم کا نقصان نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ اگر نئی نسل اپنی توانائیاں علم، تحقیق اور کردار سازی کے بجائے وقتی شوق اور غلط صحبت میں ضائع کرے گی تو اس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
نظم و ضبط کا کمزور ہوتا تصور
تعلیم صرف کتابوں سے نہیں، کردار سے بھی بنتی ہے
تعلیم کا مقصد صرف نصابی کتابیں پڑھانا نہیں بلکہ ایک ذمہ دار، بااخلاق اور باکردار انسان تیار کرنا بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر کامیاب تعلیمی نظام میں نظم و ضبط کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
ہمارے ہاں جسمانی سزا پر پابندی ایک مثبت اور ضروری قدم تھا، کیونکہ کسی بھی صورت تشدد قابلِ قبول نہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس قانون کی ایسی تشریح سامنے آئی جس نے بعض تعلیمی اداروں میں استاد کے اخلاقی اور انتظامی اختیار کو بھی محدود کر دیا۔
آج اگر کوئی استاد کسی طالب علم کو سخت لہجے میں سمجھائے، اضافی مشق دے یا قواعد کی پابندی کا مطالبہ کرے تو بعض اوقات والدین شکایت لے کر اسکول پہنچ جاتے ہیں۔ نتیجتاً کئی اساتذہ غیر ضروری تنازعات سے بچنے کے لیے خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ طرزِ عمل نہ استاد کے لیے بہتر ہے اور نہ طالب علم کے لیے۔ محبت، برداشت اور احترام کے ساتھ نظم و ضبط بھی تعلیم کا لازمی حصہ ہے۔ جہاں استاد کی بات کی اہمیت ختم ہو جائے اور قواعد کی پابندی اختیاری بن جائے، وہاں معیاری تعلیم کی توقع رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
داخلوں کی دوڑ، معیار کی قربانی
کیا صرف تعداد بڑھانا ہی کامیابی ہے؟
گزشتہ چند برسوں میں تعلیمی اداروں کی کامیابی کو اکثر طلبہ کی تعداد سے جوڑا جانے لگا ہے۔ سرکاری اداروں پر داخلے بڑھانے کا دباؤ ہوتا ہے، جبکہ نجی اسکول مالی مقابلے کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ طلبہ کو داخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس دوڑ میں بعض اوقات معیارِ تعلیم پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ ایسے طلبہ بھی اگلی جماعتوں میں پہنچ جاتے ہیں جنہیں بنیادی تعلیمی معاونت کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔
داخلہ دینا یقیناً ضروری ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہر طالب علم کو اس کی ضرورت کے مطابق تعلیم، رہنمائی اور سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر کمزور بنیاد رکھنے والے طالب علم پر مسلسل نئی جماعتوں کا بوجھ ڈالا جائے تو وہ ایک مرحلے پر جا کر لازماً مشکلات کا شکار ہوگا۔
تعلیمی اداروں کی اصل کامیابی داخلوں کی تعداد نہیں بلکہ ایسے طلبہ تیار کرنا ہے جو علم، صلاحیت اور کردار کے لحاظ سے مضبوط ہوں۔
کمزور بنیاد اور خودکار پروموشن
جب بنیاد کمزور ہو تو عمارت زیادہ دیر قائم نہیں رہتی
ہر تعلیمی سفر کی اصل طاقت اس کی ابتدائی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر ایک طالب علم پرائمری سطح پر پڑھنا، لکھنا اور بنیادی ریاضی درست طریقے سے نہ سیکھ سکے تو آگے کی جماعتوں میں اس کے لیے ہر مضمون مشکل بنتا چلا جاتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے نظام میں کئی مرتبہ کمزور کارکردگی رکھنے والے طلبہ کو بھی مختلف وجوہات کی بنا پر اگلی جماعت میں بھیج دیا جاتا ہے۔ کہیں ادارے اپنے نتائج برقرار رکھنا چاہتے ہیں، کہیں والدین کی ناراضی سے بچنا مقصود ہوتا ہے اور کہیں امتحانی نظام خود اس کمزوری کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دسویں جماعت تک پہنچنے والے بعض طلبہ بنیادی اردو یا انگریزی روانی سے نہیں پڑھ پاتے، سادہ ریاضی کے سوالات حل کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں اور امتحانی سوال کو سمجھنے میں بھی وقت لگاتے ہیں۔
ایسے میں جب بورڈ کا امتحان نسبتاً سخت معیار کے مطابق لیا جاتا ہے تو برسوں سے چھپی ہوئی کمزوریاں ایک ساتھ سامنے آ جاتی ہیں۔
اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ میٹرک کا امتحان کسی طالب علم کو کمزور نہیں بناتا، بلکہ وہ صرف اس کمزوری کو ظاہر کرتا ہے جو کئی سال پہلے پیدا ہو چکی ہوتی ہے۔
اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی بھی وقت کی ضرورت
اچھا استاد بھی مسلسل سیکھتا رہتا ہے
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تعلیمی نظام کی تمام خامیوں کی ذمہ داری صرف طلبہ یا والدین پر عائد ہوتی ہے۔ اساتذہ بھی اس پورے نظام کا ایک اہم حصہ ہیں، اس لیے ان کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی بھی ناگزیر ہے۔
آج کے اساتذہ پہلے کی نسبت زیادہ تعلیم یافتہ ضرور ہیں، لیکن بدلتے ہوئے دور کے تقاضے بھی پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ جدید تدریسی طریقے، طلبہ کی نفسیات، کلاس روم مینجمنٹ، ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال اور عملی تربیت جیسے شعبوں میں مسلسل بہتری کی ضرورت ہے۔
ایک کامیاب استاد وہی ہوتا ہے جو ہر سال خود بھی کچھ نیا سیکھے اور اپنی تدریسی صلاحیت کو بہتر بنائے۔ اسی طرح طلبہ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ استاد کے احترام، وقت کی پابندی اور سیکھنے کے جذبے کو اپنی شخصیت کا حصہ بنائیں۔
جب استاد اور شاگرد کے درمیان اعتماد، احترام اور مثبت تعلق قائم ہو جائے تو تعلیم کا معیار خود بخود بہتر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
نقل کلچر اور شارٹ کٹ کی سوچ
جب محنت کی جگہ نقل لے لیتی ہیں
اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہمارے تعلیمی نظام کو سب سے زیادہ نقصان کس چیز نے پہنچایا، تو میرا جواب ہوگا نقل کا بڑھتا ہوا رجحان۔
ایک زمانہ تھا جب نقل کو شرمندگی اور بددیانتی سمجھا جاتا تھا، مگر آج بعض مقامات پر یہ ایک منظم کلچر کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ تیار شدہ نوٹس، فوٹو اسٹیٹ شدہ جوابات، سوشل میڈیا گروپس اور مختلف غیر قانونی ذرائع نے بہت سے طلبہ کو یہ یقین دلا دیا کہ محنت کے بغیر بھی اچھے نمبر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
یہ رجحان صرف امتحان تک محدود نہیں رہتا بلکہ طالب علم کی سوچ، خود اعتمادی اور سیکھنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ جب کامیابی کا راستہ محنت کے بجائے شارٹ کٹ بن جائے تو مطالعہ، تحقیق اور تجزیاتی سوچ خود بخود کمزور پڑ جاتی ہے۔
اپنی پروفیشنل اور امتحانی خدمات کے تجربات کے دوران مجھے ایسے کئی طلبہ دیکھنے کا موقع ملا جنہیں بنیادی تصورات تک واضح نہیں تھے، لیکن انہیں یقین تھا کہ امتحان میں کسی نہ کسی طریقے سے مدد ضرور مل جائے گی۔ یہی سوچ ہمارے تعلیمی نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
جب امتحانی نظام نسبتاً سخت ہوا تو برسوں سے چھپی ہوئی حقیقت سب کے سامنے آ گئی۔ اس سال کے نتائج دراصل ایک دن یا ایک امتحان کی کہانی نہیں بلکہ کئی برسوں سے جمع ہونے والی تعلیمی کمزوریوں کا آئینہ ہیں۔
اب آگے کیا ہونا چاہیے؟
صرف تنقید نہیں، عملی اصلاحات کی ضرورت ہے
اگر ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ برسوں میں ایسے نتائج دوبارہ سامنے نہ آئیں تو ہمیں وقتی بیانات کے بجائے سنجیدہ اور دیرپا اصلاحات کی طرف جانا ہوگا۔
تعلیمی سرگرمیوں میں والدین اپنا کردار دوبارہ مضبوط کریں: تعلیم صرف اسکول کی ذمہ داری نہیں۔ والدین کو روزانہ کچھ وقت اپنے بچوں کی پڑھائی، اُن کے دوستوں کی جانچ پڑتال، دیگر معمولات اور موبائل کے استعمال پر ضرور توجہ دینا چاہیے۔ ایک گھنٹے کی مثبت نگرانی کئی بڑے مسائل کو جنم لینے سے پہلے ختم کر سکتی ہے۔
اسکول اور والدین کا مؤثر رابطہ: اساتذہ اور والدین کے درمیان مستقل رابطہ ہونا چاہیے۔ اگر کسی طالب علم کی کارکردگی کمزور ہو تو اس کی نشاندہی بروقت ہو اور دونوں مل کر اس کی بہتری کے لیے منصوبہ بنائیں۔
ابتدائی تعلیم کو مضبوط بنایا جائے: پرائمری سطح پر ریڈنگ، رائٹنگ اور بنیادی ریاضی پر خصوصی توجہ دینا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ اگر بنیاد مضبوط ہوگی تو آگے کی تعلیم بھی آسان ہوگی۔
کمزور طلبہ کے لیے خصوصی معاونت: ہر طالب علم ایک جیسی رفتار سے نہیں سیکھتا۔ اس لیے ایسے طلبہ کے لیے ریمیڈیل کلاسز، اضافی رہنمائی اور انفرادی توجہ کا نظام قائم ہونا چاہیے تاکہ وہ تعلیمی دوڑ سے باہر نہ ہوں۔
اساتذہ کی مسلسل تربیت: دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اس لیے تدریسی طریقے بھی بدلنے چاہییں۔ جدید ٹیکنالوجی، کلاس روم مینجمنٹ، طلبہ کی نفسیات اور مؤثر تدریس کے حوالے سے اساتذہ کی باقاعدہ تربیت ناگزیر ہے۔
امتحانی نظام کو مکمل شفاف بنایا جائے: نقل کی روک تھام کے لیے جدید نگرانی، مؤثر انسپکشن، سخت احتساب اور بلاامتیاز کارروائی ضروری ہے۔ جب امتحان شفاف ہوگا تو طلبہ کی توجہ بھی محنت اور تیاری پر مرکوز ہوگی۔
منشیات اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات: تعلیمی اداروں کے اردگرد منشیات کی فروخت اور استعمال کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی نوجوانوں کو کھیل، مطالعہ، مثبت سرگرمیوں اور ہنر سیکھنے کی طرف راغب کیا جائے۔
کردار سازی کو دوبارہ تعلیم کا حصہ بنایا جائے: اچھا طالب علم صرف وہ نہیں جو زیادہ نمبر لے آئے، بلکہ وہ ہے جو دیانت دار، ذمہ دار، بااخلاق اور معاشرے کے لیے مفید شہری بنے۔ اسی لیے نصابی تعلیم کے ساتھ کردار سازی، اخلاقیات اور مطالعے کی عادت کو بھی فروغ دینا ہوگا۔
یہ صرف تعلیمی بحران نہیں، ایک سماجی پیغام ہے
کوہاٹ بورڈ کے حالیہ نتائج کو صرف کامیاب اور ناکام طلبہ کے اعداد و شمار تک محدود کرنا درست نہیں ہوگا۔ یہ نتائج دراصل ہمارے پورے معاشرے کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ اگر ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو آنے والے برسوں میں صورتحال مزید تشویشناک ہو سکتی ہے۔
تعلیم کسی ایک استاد، ایک اسکول، والدین یا طالب علم کی ذمہ داری نہیں۔ یہ ایک مشترکہ امانت ہے جسے بہتر بنانے کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اگر والدین اپنی نگرانی مضبوط کریں، اساتذہ جدید تقاضوں کے مطابق خود کو بہتر بنائیں، حکومت پائیدار تعلیمی اصلاحات نافذ کرے، امتحانی نظام کو مکمل شفاف بنایا جائے اور طلبہ محنت، دیانت اور مسلسل سیکھنے کو اپنا شعار بنائیں، تو یقیناً موجودہ بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
آخر میں میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ تعلیم کا مقصد صرف امتحان میں کامیابی یا اچھے نمبر حاصل کرنا نہیں، بلکہ ایسے باشعور، باکردار اور ذمہ دار انسان تیار کرنا ہے جو اپنے خاندان، معاشرے اور وطن کے لیے باعثِ فخر بن سکیں۔
اگر ہم نے آج اس حقیقت کو سمجھ لیا تو شاید آنے والے برسوں میں امتحانی نتائج صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ہماری اجتماعی کامیابی کی داستان بن جائیں۔


0 Comments