ٹیری (بی ڈی شاہ نیوز): درہ آدم خیل میں ضلع کرک کے علاقے ٹیری سے تعلق رکھنے والے نوجوان قاسب نور کے مبینہ ناحق قتل کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں جاری امن جرگے کی کوششوں سے فریقین کے درمیان مذاکرات کا راستہ ہموار ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹیری میں جاری امن جرگے کے دوران درہ آدم خیل واقعے سے متعلق دونوں فریقین الگ الگ جرگے کے سامنے پیش ہوئے۔ اس موقع پر فریقین نے جرگہ اراکین کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی اور واقعے کو پرامن انداز میں حل کرنے کے لیے بات چیت کا سلسلہ آگے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی۔
جرگے کے دوران فریقین کی جانب سے اپنی بعض غلطیوں کا اعتراف بھی کیا گیا، جبکہ مسئلے کو مزید کشیدگی کی طرف لے جانے کے بجائے مذاکرات اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ امن جرگے کی مسلسل کوششوں کے بعد معاملے میں مثبت پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
فریقین کے جرگے کے ساتھ مذاکرات اور مصالحتی عمل میں پیش رفت کے بعد پہلے سے اعلان کردہ احتجاج کو فی الحال موخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم معاملے کے حتمی حل کے لیے جرگے کی سطح پر مزید مشاورت جاری رہنے کا امکان ہے۔
اس پیش رفت کے بعد ٹیری کے سابق چیئرمین سجاد رحمان نے میڈیا کے ساتھ ساتھ ضلع کرک کی تمام فلاحی، سیاسی، سماجی اور قوم پرست تنظیموں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بالخصوص کرک تحریکِ انقلاب، خٹک اتحاد اور خٹک زلمی سمیت ان تمام تنظیموں کی کاوشوں کو سراہا جنہوں نے اس معاملے پر آواز اٹھائی۔
سجاد رحمان کا کہنا تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں خٹک قوم کی مختلف تنظیموں کا متحد ہوکر حق اور انصاف کے لیے آواز بلند کرنا قابلِ تحسین ہے۔ ان کے مطابق امن جرگے کی کوششوں اور فریقین کے درمیان ہونے والی بات چیت سے معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ جرگے کے ذریعے جاری مذاکرات مثبت نتیجے تک پہنچیں گے اور قاسب نور کے معاملے میں انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا حل سامنے آئے گا جو علاقے میں امن اور باہمی بھائی چارے کو بھی برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو۔
0 تبصرے